Sending Islamic literature via post

Sending Islamic literature via post

Sending Islamic literature via post

Question

Is it permissible to send Islamic literature for example Ḥadīth books, Qurans, CDs through the post?

بسم الله الرحمن الرحیم

Answer

It is permissible. However, the literature especially the Qurans should be appropriately packed so that they are not damaged during handling and transportation and the Qurans do not move around. It should be noted that where it is practical to transport and deliver the Qurans in person, this is preferred.

قال الله تعالى: ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب. وقال ابن مازه في المحيط البرهاني (٥/٣٢١) ونقله في الهندية (٥/٣٢٢): وإذا حمل المصحف أو شيء من كتب الشريعة على دابة في جوالق، وركب صاحب الجوالق على الجوالق، لا يكره، انتهى. ثم رأيت في إمداد الفتاوى (٤/٦٢١ في طبعة مكتبة دار العلوم كراتشي؛ و١٠/٤٦٧ في طبعة جديدة بتحقيق شبير أحمد القاسمي) للشيخ أشرف علي التهانوي قدس الله سره ما يلي:۔

سوال:   رسالہ صوفی اور آب حیات دو پرچے میرے ہاں سے شائع ہوتے ہیں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے،  ان میں قرآن مجید کا اشتہار اور نمونہ ہر ماہ شائع ہوتا ہے، ڈاک میں کما حقہ ادب نہیں ہوسکتا،  بعض لوگوں نے اعتراض بھی کیا ہے، آج کی ڈاک میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ اگر حضرت عمرؓ کا زمانہ ہوتا تو اس بے ادبی کی سزا یہ دی جاتی کہ تم کو تختہ پر لٹکایا جاتا،  میرے دل میں بھی کچھ وہم پڑ گیا ہے اس لئے یہ نمونہ عام طور پر پیش کیا جاوے یا اس کی اشاعت کو بوجہ بے ادبی بند کیا جاوے اور پچھلی اشاعت کے متعلق اگر یہ گناہ ہے تو توبہ کی جاوے۔

الجواب:  لقبته بالصحائف في اللفائف، بعموم الصحائف للمصاحف والكتب الدينية.  آپ کی خشیت و تعظیمِ احکامِ شرعیہ سے جی خوش ہوا اور بطور مانعۃ الخلو (کما فی تفسیری) وعدہ  ومن يتق الله يجعل له مخرا، الآية ظاہر ہوا ، چنانچہ جواب سے واضح ہے۔ وهو هذا في العالمگيرية، الباب الخامس من كتاب الكراهية: وإذا حمل المصحف أو شيء من كتب الشريعة على دابة في جوالق، وركب صاحب الجوالق على الجوالق، لا يكره، كذا في المحيط. کیا یہ صورت بے ادبی کی ڈاک میں بھیجنے کی صورت سے اشد نہیں ہے ،پھر جائز رکھی گئی، نیز حضور اقدس ﷺ نے اپنے بعض مبارک فرمانوں میں جو بنام شاہانِ عجم تھے قرآن مجید کی یہ آیت لکھوائی:  قل يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا، الخ اور معلوم تھا کہ یہ فرمان مع آیت مقدسہ کفار کے ہاتھ میں پہنچے گا جن سے کسی آداب اسلامی کی بھی توقع نہیں، کیا یہ صورت کہ ممسوس طاہر اور ماسّ غیرطاہر میں کوئی حائل بھی نہیں ڈاک میں بھیجنے کی صورت سے کہ یہاں حائل کے سبب مس بھی نہیں اشد نہیں پھر جائز رکھی گئی۔

 نیز تمام امت کا تعامل خطوط کے اندر بسم اللہ یا دیگر کلماتِ مقدسہ لکھنے کا شائع ہے جو بوجہ جزو قرآن یاحدیث یا دیگر وجوہ سے محلِ ادب ہیں ، چنانچہ یہ فتویٰ جو کہ فقہ کا ایک جزو ہے ڈاک میں جا رہا ہے،  حالانکہ مثل قرآن مجید کے بے ادبی ان کی بھی جائز نہیں  كما هو ظاهر وصرح به الفقهاء۔اور فقہاء نے تو خود حروف مرکبہ ومفردہ تک کی بے ادبی کو ناجائز فرمایا ہے گو ابوجہل ہی کے نام کے حروف ہوں محض اس بناء پر کہ یہی حروف مادّہ ہیں دوسرے کلام مقدس کے.  نیز علاوہ خطوط کے تمام کتب شرعیہ د ینیہ بلا نکیر ڈاک میں روانہ کی جاتی ہیں حالانکہ بے ادبی ان کی بھی ناجائز ہے۔ یہ سب مجموعی دلائل اس باب میں کافی سے زیادہ ہیں، کیا تمام امت کے علماء حضرت عمرؓ کے مذاق سے ناواقف تھے یا نعوذ باللہ اس مذاق کے مخالف تھے یا حضرت عمرؓ کا مذاق نعوذ باللہ نص ارسال کتب نبویّہ کے خلاف ہو سکتا ہے۔

 اور راز اس کا دوا مر ہیں ایک یہ کہ مدار ادب کا عرف پر ہے، چنانچہ اصولیین کی تحقیق  لا تقل لهما أف کے متعلق اس کی دلیل ہے اور ظاہر ہے کہ ڈاک میں اس طرح سے روانہ کرنا عرفا خلاف ادب نہیں سمجھا جاتا۔ دوسرا امر یہ کہ شریعت میں ضرورت کو خصوص ضرورت دینیہ کو احکام کی تسہیل وتخفیف میں خاص طور پر مؤثر قرار دیا گیاہے،  چنانچہ علماء شراح حدیث نے حدیث بریرہؓ  اشترطي لهم الولاء  میں تصریحاً فرمایا ہے کہ اشد المفسدتین کے دفع کے لئے اخف المفسدتین کا تحمل کر لیا جاتا ہے۔  اور ظاہر ہے کہ اگر ایسی روانگی ڈاک میں مفسدہ بھی ہو، تب بھی اشاعت قرآن مجید و کتب دینیہ کے بند یا کم ہوجانے کے مفسدہ سے بہت اہون واخف ہے، اس لئے اس کو گوارا کیا جائے گا، ورنہ اس وقت اشاعت مذکورہ مقصودہ فی الدین کا کوئی ذریعہ ہی نہیں، اور مفسدہ کا اعظم ہونا ظاہر ہے، واللہ اعلم۔ نوٹ: البتہ ان نمونوں پر اگر یہ بھی چھاپ دیا جاوے کہ ان کو ادب سے رکھیں تو بہتر ہے، تاکہ پہنچنے کے بعد بلا ضرورت بے ادبی نہ ہونے پاوے۔

Allah knows best

Yusuf Shabbir

21 Jumādā al-Thāniyah 1445 / 4 January 2024

Approved by: Mufti Shabbir Ahmed and Mufti Muhammad Tahir